مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الدَّجَّالُ سَيُقْتَلُهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ)
دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے
حدیث نمبر: 5504
5504 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ، طَالِعَةٌ نَابُهُ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ، فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ". فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ"فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ. رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) .
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نے مدینہ میں ایک بچے کو جنم دیا جس کی آنکھ نہیں تھی اور اس کی کچلیاں نظر آ رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ دجال نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک چادر کے نیچے کچھ غیر واضح باتیں کرتے ہوئے پایا، اس کی والدہ نے اسے اطلاع کر دی اور کہا: اے عبداللہ! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، تو وہ چادر سے باہر نکلا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کیا ہوا؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر وہ اس (ابنِ صیاد) کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی تو وہ (اپنے دل کی بات) بیان کر دیتا۔“ پھر ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں اسے قتل کر دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو یہ وہی (دجال) ہے تو پھر تم اسے قتل کرنے والے نہیں ہو، اسے قتل کرنے والے تو عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں، اور اگر وہ (دجال) نہ ہوا تو پھر کسی ذمی شخص کو قتل کرنے کا تمہیں کوئی حق حاصل نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل اس اندیشے میں رہے کہ کہیں وہ دجال نہ ہو۔ (اس کی سند ضعیف ہے، اسے شرح السنہ میں روایت کیا گیا ہے)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البغوي في شرح السنة (5/ 78ح 4274) [و أحمد (3/ 368 ح 15018) ]
٭ فيه أبو الزبير مدلس و عنعن .»
٭ فيه أبو الزبير مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
Mishkat al-Masabih Hadith 5504 in Urdu