مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ شَمَائِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
شمائل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان
حدیث نمبر: 5779
5779 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ، وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَكَانَ مُسْتَدِيرًا، وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی کے اگلے حصے کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیل لگاتے تھے تو وہ نظر نہیں آتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بالوں میں کنگھی نہیں کی ہوتی تھی تو وہ نظر آ جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی کے بال گھنے تھے، کسی آدمی نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک (چمک کے لحاظ سے) تلوار کی طرح تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سورج اور چاند کی طرح چمکتا تھا اور رخِ انور گول تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے کے پاس مہرِ نبوت دیکھی جو کہ کبوتری کے انڈے کی طرح تھی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر (کے رنگ) کے مشابہ تھی۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5779]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (109/ 2344)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 5779 in Urdu