مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى وُلَاتِهِ)
نماز کو اول وقت میں ادا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 584
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 584 - عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ. فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ"يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن شہاب (زہری رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نمازِ عصر میں کچھ تاخیر کی تو عروہ (بن زبیر رحمہ اللہ) نے انہیں کہا: آگاہ رہو کہ جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے نماز پڑھی، تو عمر رحمہ اللہ نے فرمایا: عروہ! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم کیا کہہ رہے ہو، انہوں نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ (دوسری) نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ یوں پانچ دفعہ اپنی انگلیوں پر شمار کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3221) و مسلم (166/ 610)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
Mishkat al-Masabih Hadith 584 in Urdu