مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (تسلية جبريل عليه السلام للنبي مرارا)
جبرائیل علیہ السلام کا آپ کو بار بار تسلی دینا
حدیث نمبر: 5842
5842 - وَزَادَ الْبُخَارِيُّ، حَتَّى حَزِنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا بَلَغَنَا - حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجَبَلِ ، فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ، تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا. فَيَسْكُنُ لِذَلِكَ جَأْشُهُ، وَتَقِرُّ نَفْسُهُ.
اور امام بخاری ؒ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غمگین ہو گئے، ہمیں جو روایات پہنچی ہیں، ان کے مطابق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غمگین ہو گئے، کئی دفعہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے آپ کو نیچے گرا لیں، وہ جب بھی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر اپنے آپ کو گرانے لگتے تو جبریل ؑ آپ کے سامنے آ جاتے اور کہتے: محمد! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ کا قلبی اضطراب ختم ہو جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سکون محسوس کرتے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5842]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6982)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 5842 in Urdu