مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَهَادَةُ شَجَرَةٍ)
ایک درخت کی گواہی
حدیث نمبر: 5925
5925 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولَهُ؟) . قَالَ: وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ؟ قَالَ: (هَذِهِ السَّلَمَةُ) فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَهُوَ بِشَاطِئِ الْوَادِي، فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَشْهِدْهَا ثَلَاثًا، فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا. أَنَّهُ كَمَا قَالَ، ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبِتِهَا. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ایک اعرابی آیا، جب وہ قریب آ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس نے کہا: آپ جو فرما رہے ہیں اس پر کون گواہی دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ خار دار درخت۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور وہ وادی کے کنارے پر تھا، وہ زمین پھاڑتا ہوا آیا حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے تین مرتبہ گواہی طلب کی تو اس نے تین مرتبہ گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان وہی ہے جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، پھر وہ اپنی اگنے کی جگہ پر چلا گیا۔ اسنادہ حسن، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5925]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الدارمي (1/ 10 ح 16)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
Mishkat al-Masabih Hadith 5925 in Urdu