🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عِنْدَمَا أُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُمًّا)
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5931
5931 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ يَهُودِيَّةً مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ سَمَّتْ شَاةً مَصْلِيَّةً، ثُمَّ أَهْدَتْهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الذِّرَاعَ، فَأَكَلَ مِنْهَا وَأَكَلَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ) وَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِيَّةِ فَدَعَاهَا. فَقَالَ: أَسَمَمْتِ هَذِهِ الشَّاةَ؟) فَقَالَتْ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟ قَالَ: (أَخْبَرَتْنِي هَذِهِ فِي يَدِي) لِلذِّرَاعِ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: إِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَنْ تَضُرَّهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نَبِيًّا اسْتَرَحْنَا مِنْهُ فَعَفَا عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يُعَاقِبْهَا، وَتُوَفِّي أَصْحَابُهُ الَّذِينَ أَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ، وَاحْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كَاهِلِهِ مِنْ أَجْلِ الَّذِي أَكَلَ مِنَ الشَّاةِ، حَجَمَهُ أَبُو هِنْدٍ بِالْقَرْنِ وَالشَّفْرَةِ، وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي بَيَاضَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل خیبر کی ایک یہودی عورت نے ایک بھنی ہوئی بکری میں زہر ملا دیا، پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر بھیج دیا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دستی لی اور اس سے کھایا، اور آپ کے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ (کھانے سے) اٹھا لو۔“ آپ نے یہودی عورت کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”کیا تو نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟“ اس نے کہا: آپ کو کس نے بتایا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے ہاتھ میں یہ جو دستی ہے اس نے مجھے بتایا ہے۔“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے کہا: اگر تو وہ سچے نبی ہوئے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گی، اور اگر وہ سچے نبی نہ ہوئے تو ہم اس سے آرام پا جائیں گے۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو معاف فرما دیا اور اسے سزا نہ دی، اور آپ کے جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بکری کا گوشت کھایا تھا وہ فوت ہو گئے، جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بکری کا گوشت کھانے کی وجہ سے اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوائے، ابوہند رضی اللہ عنہ جو کہ انصار کے قبیلے بنو بیاضہ کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے سینگ اور چھری کے ساتھ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پچھنے لگائے تھے۔ (اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والدارمی) [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5931]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4510) و الدارمي (1/ 33 ح 69)
٭ الزھري عن جابر: منقطع ’’لم يسمع منه‘‘ انظر تحفة الأشراف (2/ 356)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف


Mishkat al-Masabih Hadith 5931 in Urdu