مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حَضْرَةُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَخْصِيَّةٌ مُتَّفَقٌ عَلَيْهَا بَيْنَ المُؤْمِنِينَ)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اہل ایمان کے متفق علیہ شخصیت
حدیث نمبر: 6021
6021 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ: (ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا ; فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا، وَلَا ; وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي (كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ) : (أَنَا أَوْلَى) بَدَلَ: (أَنَا وَلَا) .
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض میں مجھے فرمایا: ”اپنے والد ابوبکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ حتیٰ کہ میں تحریر لکھ دوں، مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کوئی کہنے والا کہے کہ میں خلافت کا مستحق ہوں، حالانکہ اللہ اور تمام مومن صرف ابوبکر کو ہی قبول کریں گے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے، اور کتاب الحمیدی میں «أَنَا وَلَا» کی جگہ «أَنَا أَوْلَى» کے الفاظ ہیں۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6021]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (11/ 2387)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 6021 in Urdu