🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عِنْدَمَا غَلَبَ ٱلنَّوْمُ رَسُولَ ٱللَّهِ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَاتَتْهُ صَلَاةُ ٱلْفَجْرِ)
جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہ گئے اور نماز فجر قضا ہو گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 684
684 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، سَارَ لَيْلَةً، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: (اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ. فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ. فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: (أَيْ بِلَالُ!) . فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسَيِ الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ. قَالَ (اقْتَادُوا) فَاقْتَادَوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ. فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: (مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوہ خیبر سے واپس تشریف لائے تو آپ نے رات بھر سفر جاری رکھا، حتیٰ کہ آپ کو اونگھ آنے لگی تو آپ نے رات کے آخری حصے میں نیند کی غرض سے پڑاؤ ڈالا اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ رات کے وقت پہرہ دیں۔“ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے اس قدر نوافل پڑھے جس قدر ان کے مقدر میں تھے جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آ پہنچا تو بلال رضی اللہ عنہ نے فجر (مشرق) کی طرف رخ کر کے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا لی تو بلال رضی اللہ عنہ پر نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے سو گئے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ اور نہ ہی آپ کا کوئی اور صحابی، حتیٰ کہ ان پر دھوپ آ گئی، تو ان میں سے سب سے پہلے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھبرا کر فرمایا: ”بلال!“ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) جو چیز آپ پر غالب آئی وہی چیز مجھ پر غالب آ گئی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”(یہاں سے) اپنے جانوروں کو چلاؤ۔“ انہوں نے تھوڑی دور تک اپنے جانوروں کو ہانکا، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، اور آپ نے انہیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو وہ اس کے یاد آنے پر اسے پڑھ لے“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 684]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (309 /680)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


Mishkat al-Masabih Hadith 684 in Urdu