🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (بَيْنَ ٱللَّهِ وَجِبْرِيلَ عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ)
اللہ تعالیٰ اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان ستر ہزار پردے حائل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 741
741 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّ حَبْرًا مِنَ الْيَهُودِ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، وَقَالَ: (أَسْكُتُ حَتَّى يَجِيءَ جِبْرِيلُ) ، فَسَكَتَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، فَسَأَلَ فَقَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. وَلَكِنْ أَسْأَلُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي دَنَوْتُ مِنَ اللَّهِ دُنُوًّا مَا دَنَوْتُ مِنْهُ قَطُّ، قَالَ: (وَكَيْفَ كَانَ يَا جِبْرِيلُ؟) ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ، فَقَالَ: شَرُّ الْبِقَاعِ أَسْوَاقُهَا، وَخَيْرُ الْبِقَاعِ مَسَاجِدُهَا، رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی یہودی عالم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: کون سا قطعہ زمین بہتر ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش ہو گئے اور فرمایا: ”میں جبریل علیہ السلام کے آنے تک خاموش رہوں گا۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے اور جب جبریل علیہ السلام آئے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اس بارے میں مسؤول، سائل سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دریافت کروں گا، پھر جبریل علیہ السلام نے فرمایا: محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم! میں اللہ کے اتنا قریب ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں ہوا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ”جبریل! وہ (قریب ہونا) کیسے تھا؟“ انہوں نے فرمایا: میرے اور اس کے مابین نور کے ستر ہزار پردے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”بدترین مقامات بازار اور بہترین مقامات مساجد ہیں۔“ «لَا أَصْلَ لَهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، لَمْ أَجِدْهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» ”اس لفظ کے ساتھ اس کی کوئی اصل نہیں، میں نے اسے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں پایا۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 741]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لا أصل له بھذا اللفظ، لم أجده عن أبي أمامة رضي الله عنه .
٭ ولأصل الحديث شواھد عند ابن حبان (الموارد: 1599 عن ابن عمر) و الطبراني في الکبير (128/2 ح 1545) و أحمد (4/ 81 ح 16865) والحاکم (2/ 7) من حديث جبير بن مطعم رضي الله عنه، والطبراني في الأوسط (7140) من حديث أنس رضي الله عنه بألفاظ أخري .»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:لا أصل له بھذا اللفظ


Mishkat al-Masabih Hadith 741 in Urdu