مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (زَجْرُ عُمَرَ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنْهُ لِمَنْ يَرْفَعُ ٱلصَّوْتَ فِي مَسْجِدِ ٱلنَّبِيِّ صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شور کرنے والے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ڈانٹنا
حدیث نمبر: 744
744 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، فَحَصَبَنِي رَجُلٌ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتُمَا - أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا -؟ قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا ; تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں کھڑا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا، تو انہوں نے فرمایا: تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو؟ انہوں نے کہا: اہل طائف سے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (470)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 744 in Urdu