مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2.13. (اتَّبِعْ وَسْوَسَةَ الصَّلَاةِ)
نماز میں وسوسے کی پروانہ کرو
حدیث نمبر: 78
78 - وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: إِنِّي أَهِمُ فِي صَلَاتِي فَيَكْبُرُ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ لَهُ: امْضِ فِي صَلَاتِكَ، فَإِنَّهُ لَنْ يَذْهَبَ ذَلِكَ عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ، وَأَنْتَ تَقُولُ: مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. رَوَاهُ مَالِكٌ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ان سے مسئلہ دریافت کیا تو کہا: نماز میں میرا خیال کسی دوسری طرف چلا جاتا ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: اپنی نماز جاری رکھو، کیونکہ تمہارے نماز سے فارغ ہونے تک یہ آتے رہیں گے، اور (نماز کے اختتام پر) تم کہو گے: میں نے اپنی نماز مکمل نہیں کی۔ اس حدیث کو امام مالک رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الإيمان/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک في الموطأ (1/ 100 ح 222)
٭ ھذا من البلاغات، لم أجد له سندًا صحيحًا ولا حسنًا .»
٭ ھذا من البلاغات، لم أجد له سندًا صحيحًا ولا حسنًا .»
قال الشيخ الألباني: لم تتم دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
مشکوۃ المصابیح کی حدیث نمبر 78 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 78
تحقیق الحدیث:
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اسے امام مالک نے سند کے بغیر روایت کیا ہے۔ یہ روایت بلاغات یعنی منقطع روایتوں میں سے ہے۔
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اسے امام مالک نے سند کے بغیر روایت کیا ہے۔ یہ روایت بلاغات یعنی منقطع روایتوں میں سے ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 78]
Mishkat al-Masabih Hadith 78 in Urdu