مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (النَّهْيُ عَنِ الكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں گفتگو کی ممانعت
حدیث نمبر: 978
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يُبَاحُ مِنْهُ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 978 - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، فَوَاللَّهِ مَا كَهَرَنِي وَلَا ضَرَبَنِي، وَلَا شَتَمَنِي، قَالَ:"إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ، وَالتَّكْبِيرُ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا رِجَالًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:"فَلَا تَأْتِهِمْ"، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:"ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:"كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، قَوْلُهُ: لَكِنِّي سَكَتُّ، هَكَذَا وُجِدَتْ فِي"صَحِيحِ مُسْلِمٍ"، وَكِتَابِ"الْحُمَيْدِيِّ، وَصُحِّحَ فِي"جَامِعِ الْأُصُولِ"بِلَفْظَةِ: كَذَا، فَوْقَ: لَكِنِّي.
معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس دوران لوگوں میں سے کسی آدمی نے چھینک مار دی، تو میں نے (دوران نماز) کہہ دیا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم کرے“، لوگ مجھے آنکھوں کے اشارے سے روکنے لگے، میں نے کہا: ”میری ماں مجھے گم پائے، تمہیں کیا ہوا کہ تم مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنا شروع کر دیے، چنانچہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے چپ کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی، میرے والدین آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ جیسا بہترین معلم نہ آپ سے پہلے کوئی دیکھا ہے نہ آپ کے بعد، اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ ہی گالی دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جو نماز ہے اس میں لوگوں کا باتیں کرنا درست نہیں، یہ تو صرف تسبیح و تکبیر اور قراءتِ قرآن ہے۔“ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت سے نوازا ہے، بے شک ہم میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے پاس نہ جانا۔“ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ فال لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جو وہ اپنے سینوں میں پاتے ہیں، (اس کی کوئی دلیل نہیں) پس یہ چیز انہیں روکنے نہ پائے۔“ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ایک نبی بھی خط کھینچا کرتے تھے، پس جس کا خط ان کے موافق ہو گا تو وہ درست ہے۔“ رواہ مسلم۔ (مؤلف فرماتے ہیں) کہ راوی کا یہ کہنا: «لَكِنِّيْ سَكَتُّ» ”لیکن میں خاموش رہا“ میں نے یہ جملہ صحیح مسلم اور کتابِ حمیدی میں اسی طرح دیکھا ہے، اور جامع الاصول میں اس کے ساتھ «كَذَا» کا لفظ تصحیح کے طور پر لایا گیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 978]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (33/ 537)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
Mishkat al-Masabih Hadith 978 in Urdu