مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 10027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ، ثُمَّ حَمَلَ الْحَسَنَ , أَوْ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ، وَإِنََّ لُعَابُهُ لَيَسِيلُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فََإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 10027]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن زياد القرشي، أبو الحارث محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← محمد بن زياد القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث |
Musnad Ahmad Hadith 10027 in Urdu
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي