مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 12915
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ:" لِمَنْ هَذَا؟" قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ: تُصَلَّي، فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ:" لِتُصَلِّ مَا طَاقَتْ، فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باند ھ لیتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھول دو، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 12915]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وإسناده هنا مرسل، وانظر ما بعده ، وهو موصول
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى | ثقة | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث |
Musnad Ahmad Hadith 12915 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري