مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. مسنَد اَنَسِ بنِ مَالِك رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 13654
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، ثُمَّ دَعَانِي، فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ، فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَنْ أُمِّي، فَقَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجَةٍ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَمَا هِيَ؟ فَقُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ:" لَا تُحَدِّثْ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا"، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ، لَوْ كُنْتُ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا، لَحَدَّثْتُكَ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم رضی اللہ عنہ (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ میں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا، بخدا! اے ثابت! اگر میں وہ کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 13654]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2482
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
Musnad Ahmad Hadith 13654 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري