🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
443. حديث ذي مخبر الحبشي وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16824
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ صُلَيْحٍ ، عَنْ ذِي مِخْمَرٍ وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حِينَ انْصَرَفَ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ لِقِلَّةِ الزَّادِ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ انْقَطَعَ النَّاسُ وَرَاءَكَ، فَحَبَسَ وَحَبَسَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى تَكَامَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ: " هَلْ لَكُمْ أَنْ نَهْجَعَ هَجْعَةً؟ أَوْ قَالَ لَهُ قَائِلٌ فَنَزَلَ وَنَزَلُوا، فَقَالَ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ؟" فَقُلْتُ: أَنَا، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، فَأَعْطَانِي خِطَامَ نَاقَتِهِ، فَقَالَ:" هَاكَ لَا تَكُونُنَّ لُكَعَ"، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَتَنَحَّيْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُمَا يَرْعَيَانِ، فَإِنِّي كَذَاكَ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا حَتَّى أَخَذَنِي النَّوْمُ، فَلَمْ أَشْعُرْ بِشَيْءٍ حَتَّى وَجَدْتُ حَرَّ الشَّمْسِ عَلَى وَجْهِي، فَاسْتَيْقَظْتُ، فَنَظَرْتُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا أَنَا بِالرَّاحِلَتَيْنِ مِنِّي غَيْرُ بَعِيدٍ، فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِخِطَامِ نَاقَتِي، فَأَتَيْتُ أَدْنَى الْقَوْمِ فَأَيْقَظْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: أَصَلَّيْتُمْ؟ قَالَ: لَا، فَأَيْقَظَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا بِلَالُ، هَلْ فِي الْمِيضَأَةِ مَاءٌ؟" يَعْنِي الْإِدَاوَةَ قَالَ: نَعَمْ، جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاكَ، فَأَتَاهُ بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، لَمْ يَلُتَّ مِنْهُ التُّرَابَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، ثُمَّ أَمَرَهُ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى وَهُوَ غَيْرُ عَجِلٍ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ فْرَطْنَا، قَالَ:" لَا، قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَنَا وَقَدْ رَدَّهَا إِلَيْنَا، وَقَدْ صَلَّيْنَا"
حضرت ذومخمر (جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے) جو ایک حبشی آدمی تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رفتار تیز کردی، عام طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم زاد راہ کی قلت کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، کسی آدمی نے کہا یا رسول اللہ! لوگ بہت پیچھے رہ گئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے اور آپ کے ہمراہی بھی رک گئے، یہاں تک کہ سب لوگ پورے ہوگئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور نے مشورہ دیا کہ یہیں پڑاؤ کرلیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اتر گئے اور سب لوگوں نے پڑاؤ ڈال لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا آج رات ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں کروں گا، اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی لگام مجھے پکڑا دی اور فرمایا غافل نہ ہوجانا، میں نے اپنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑی اور کچھ فاصلے پر جا کر ان دونوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا، میں انہیں اسی طرح دیکھتا رہا کہ اچانک مجھے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے کسی چیز کا شعور نہیں رہا یہاں تک کہ مجھے اپنے چہرے پر سورج کی تپش محسوس ہوئی تو میری آنکھ کھلی، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو دونوں سواریاں مجھ سے زیادہ دور نہیں تھیں، میں نے ان دونوں کی لگام پکڑی اور قریب کے لوگوں کے پاس پہنچ کر انہیں جگایا اور پوچھا کہ تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے جواب دیا نہیں، پھر لوگ ایک دوسرے کو جگانے لگے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیدار ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال! کیا برتن میں وضو کے لئے پانی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اللہ مجھے آپ پر نثار کرے، پھر وہ وضو کا پانی لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تیمم نہیں فرمایا: پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نے اذان دی، پھر نبی نے کھڑے ہو کر فجر سے پہلے کی دو سنتیں پڑھیں، اور اس مین جلدی نہیں کی، پھر حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور نبی نے اطمینان سے فجر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد کسی شخص نے عرض کیا، اے اللہ کے نبی! ہم سے کوتاہی ہوئی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! اللہ ہی نے ہماری روحوں کو قبض کیا اور اسی نے ہماری روحوں کو واپس فرمایا اور ہم نے نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16824]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ذو مخبر الحبشي، أبو سلامصحابي
👤←👥يزيد بن صالح الرحبي، أبو خالد
Newيزيد بن صالح الرحبي ← ذو مخبر الحبشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥حريز بن عثمان الرحبي، أبو عون، أبو عثمان
Newحريز بن عثمان الرحبي ← يزيد بن صالح الرحبي
ثقة رمي بالنصب
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← حريز بن عثمان الرحبي
ثقة ثبت
Musnad Ahmad Hadith 16824 in Urdu