مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. حَدِیث عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ عَوف الزّهرِیِّ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1683
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَاءُ الْأَجْنَادِ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ، أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا، فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ، فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ"، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ شام کی طرف روانہ ہوئے، جب وہ مقام سرغ میں پہنچے تو امراء لشکر سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ وغیرہ ان سے ملاقات کے لئے آئے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ شام میں وبا پھیلی ہوئی ہے، اور راوی نے مکمل حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا کہ پھر سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آئے - وہ اپنی کسی ضرورت سے کہیں گئے ہوئے تھے - اور کہنے لگے کہ میرے پاس اس کا یقینی علم موجود ہے۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جب یہ وبا کسی علاقے میں پھیلی ہوئی ہو اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے راہ فرار مت اختیار کرو، اور اگر تم وہاں نہ ہو تو اس علاقے میں جاؤ مت۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔ [مسند احمد/مسند باقي العشرة المبشرين بالجنة/حدیث: 1683]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5729، م: 2219.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1683 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري