مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
466. بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
حدیث نمبر: 17049
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحُ، قَالَ:" أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ؟"، قَالَ: " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحَ بِهَا قَوْمٌ كَافِرِينَ بِالَّذِي آمَنَ بِي" .
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندوں پر جب بھی کوئی نعمت اتارتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ اس کی ناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے، لہٰذا جو شخص مجھ پر ایمان لائے، میرے پانی پلانے پر میری تعریف کرے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے ستاروں کا انکار کرتا ہے اور جو یہ کہتا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17049]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 7503، م: 71
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 17049 in Urdu
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← زيد بن خالد الجهني