مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. حَدِیث عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ اَبِی بَكر رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1707
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ قَاضِي الْمِصْرَيْنِ وَهُوَ شُرَيْحٌ , وَالْمِصْرَانِ: الْبَصْرَةُ , وَالْكُوفَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْعُو بِصَاحِبِ الدَّيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقِيمُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيَقُولُ أَيْ عَبْدِي، فِيمَ أَذْهَبْتَ مَالَ النَّاسِ؟ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ؟ قَدْ عَلِمْتَ، أَنِّي لَمْ أُفْسِدْهُ، إِنَّمَا ذَهَبَ فِي غَرَقٍ، أَوْ حَرَقٍ أَوْ سَرِقَةٍ أَوْ وَضِيعَةٍ، فَيَدْعُو اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ فَيَضَعُهُ فِي مِيزَانِهِ، فَتَرْجَحُ حَسَنَاتُهُ".
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مقروض کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ ”بندے! تو نے لوگوں کا مال کہاں اڑایا؟“ وہ عرض کرے گا: پروردگار! آپ تو جانتے ہیں کہ میں نے اسے یونہی برباد نہیں کیا، بلکہ وہ تو سمندر میں ڈوب کر، جل کر، چوری ہو کر یا ٹیکسوں کی ادائیگی میں ضائع ہو گیا۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ کوئی چیز منگوا کر اس کے میزان عمل میں رکھ دیں گے جس سے اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو کر جھک جائے گا۔“ [مسند احمد/ مسند الصحابة بعد العشرة/حدیث: 1707]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، صدقة بن موسي ضعيف وقيس بن زيد مجهول.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1707 in Urdu
شريح بن الحارث القاضي ← عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق