مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17339
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، قَالَ: انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، لِيُصَلِّيَ فِيهِ، فَاتَّبَعَهُ نَاسٌ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: انْزِلُوا فَصَلُّوا، فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ، فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ، إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ" .
عبدالرحمن بن عائذ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصی میں نماز پڑھنے کے لئے روانہ ہوئے تو کچھ لوگ ان کے پیچھے ہو لئے، حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ساتھ چلنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آپ نے چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف پایا ہے، اس لئے ہم آپ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور آپ کو سلام کرنے کے لئے آئے ہیں حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہیں پر اترو اور نماز پڑھو، چنانچہ سب نے اتر کر نماز پڑھی، سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اور اپنے ہاتھوں کو کسی کے خون سے رنگین کئے ہوئے نہ ہو، اسے اجازت ہوگی کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے، اس میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17339]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن كان عبدالرحمن بن عائذ سمعه من عقبة بن عامر
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 17339 in Urdu
عبد الرحمن بن عائذ الأزدي ← عقبة بن عامر الجهني