مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. حَدِیث عقبَةَ بنِ عَامِر الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 17345
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ، فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَاقْبَلُوا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ" .
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ بعض اوقات آپ ہمیں کہیں بھیجتے ہیں، ہم ایسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں جو ہماری مہمان نوازی نہیں کرتی تو اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم کسی قوم میں مہمان بن کر جاؤ اور وہ لوگ اس چیز کا حکم دے دیں جو ایک مہمان کے لئے مناسب حال ہوتی ہے تو اسے قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم خود ان سے مہمان کا مناسب حق وصول کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17345]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2461، م: 1727
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 17345 in Urdu
مرثد بن عبد الله اليزني ← عقبة بن عامر الجهني