مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
669. حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18524
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَق؟" قَالُوا: الصَّلَاةُ. قَالَ:" حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا". قَالُوا: الزَّكَاةُ. قَالَ:" حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا". قَالُوا: صِيَامُ رَمَضَانَ. قَالَ:" حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ". قَالُوا: الْحَجُّ. قَالَ:" حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ". قَالُوا: الْجِهَادُ. قَالَ:" حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ". قَالَ:" إِنَّ أَوْثَق عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللَّهِ، وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ" .
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سے رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا زکوۃ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ماہ رمضان کے روزے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حج بیت اللہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جہاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔ [مسند احمد/أول مسند الكوفيين/حدیث: 18524]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 18524 in Urdu
معاوية بن سويد المزني ← البراء بن عازب الأنصاري