مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 1886
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ :" صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ، فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادی بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں 22 مرتبہ تکبیر کہی، وہ تو جب سجدے میں جاتا اور اس سے سر اٹھاتا تھا تب بھی تکبیر کہتا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1886]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى عروبة مختلط ، ورواية ابن أبى عدي عنه بعد الاختلاط.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 1886 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي