مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
801. حَدِيثُ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 19766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ، أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ، وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ، فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ، فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: حَلْ حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهَا , فَقَالَ رسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ؟ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ , أَوْ نَاقَةٌ , أَوْ بَعِيرٌ , عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ" .
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ! اس پر لعنت فرما، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باندی کا مالک کون ہے؟ ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 19766]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2596
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 19766 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← نضلة بن عمرو الأسلمي