مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
810. بَقِيَّةُ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20076
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ : أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرْكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ، فَاقْضِ عَنْهُ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ , قَالَ:" فَأَعْطِهَا، فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ" ..
حضرت سعد بن اطول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا ایک بھائی فوت ہوگیا، اس نے تین سو دینار ترکے میں چھوڑے اور چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے ان پر کچھ خرچ کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مقروض ہو کر فوت ہوا ہے لہذا جا کر پہلے ان کا قرض ادا کرو، چنانچہ میں نے جا کر اس کا قرض ادا کیا اور حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ! میں نے اپنے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ہے اور سوائے ایک عورت کے کوئی قرض خواہ نہیں بچا، وہ دو دیناروں کی مدعی ہے لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے سچا سمجھو اور اس کا قرض بھی ادا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20076]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالملك أبى جعفر
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعد بن الأطول الجهني، أبو مطرف، أبو قضاعة | صحابي | |
👤←👥المنذر بن مالك العوفي، أبو نضرة المنذر بن مالك العوفي ← سعد بن الأطول الجهني | ثقة | |
👤←👥عبد الملك البصري، أبو جعفر عبد الملك البصري ← المنذر بن مالك العوفي | مجهول | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عبد الملك البصري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
Musnad Ahmad Hadith 20076 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← سعد بن الأطول الجهني