مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
842. حديث أبى بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20386
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟" قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، فَقَالَ: أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ:" أَلَيْسَتْ الْبَلْدَةَ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا لَا تَرْجِعُونَ بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟! أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ مِنْكُمْ، فَلَعَلَّ مَنْ يُبَلَّغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ يَسْمَعُهُ" ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ كَانَ ذَاكَ، قَالَ: قَدْ كَانَ بَعْضُ مَنْ بُلِّغَهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ.
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یاد رکھو کہ زمانہ اپنی اس اصلی حالت پر واپس آگیا ہے جس پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں جن میں سے چار مہینے اشہر حرام ہیں ان میں سے تین تو مسلسل ہیں یعنی ذی قعدہ ذی الحج اور محرم ہے اور چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے پھر فرمایا یہ بتاؤ کہ آج کون سا دن ہے ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے۔ کہ ہم یہ سمجھے کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دوسرا نام بتائیں گے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسب سابق خاموش رہے پھر فرمایا کیا یہ شہر حرم نہیں ہے ہم نے عرض کیا کیوں نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری جان اور مال اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہے جیسا کہ اس شہر میں اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۔ یاد رکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا تم میں سے جو موجود ہے وہ غائبین تک یہ پیغام پہنچادے کیونکہ بعض اوقات جسے پیغام پہنچایا جاتا ہے وہ سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20386]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 67، م: 1679، لم يثبت سماع محمد بن سيرين من أبى بكرة، وقد توبع ابن سيرين
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← نفيع بن مسروح الثقفي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني | ثقة حجة حافظ |
Musnad Ahmad Hadith 20386 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← نفيع بن مسروح الثقفي