مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
842. حديث أبى بكرة نفيع بن الحارث بن كلدة رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 20431
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ، وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟" فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ، فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَقْتُلُ هَذَا؟!" فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ قَتَلْتُمُوهُ، لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا" .
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک آدمی کے پاس سے گزر ہوا جو سجدے میں پڑا ہوا تھا جب نماز پڑھ کر واپس آئے تب بھی وہ سجدے میں ہی تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے ہوگئے اور فرمایا اسے کون قتل کرے گا؟ ایک آدمی تیار ہوا اس نے بازو اوپر چڑھائے اور تلوار ہلاتا ہوا چلا پھر کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں سجدے میں پڑے ہوئے اس آدمی کو کیسے قتل کروں جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں محمد اس کے بندے اور رسول ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اسے کون قتل کرے گا اس پر دوسرا آدمی تیار ہوا اس نے بھی اپنے بازو چڑھائے اور تلوارہلاتا ہوا چلا آیا لیکن اس کے ہاتھ بھی کانپنے لگے اور وہ بھی کہنے لگا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس شخص کو کیسے قتل کروں جو اللہ کی وحدانیت اور محمد کی بندگی و رسالت کی گواہی دیتا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذا ات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے اگر تم اسے قتل کردیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20431]
حکم دارالسلام: في متن الحديث نكارة، وقد تفرد به مسلم بن أبى بكرة عن أبيه، وعثمان تعرف وتنكر
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥نفيع بن مسروح الثقفي، أبو بكرة | صحابي | |
👤←👥مسلم بن أبي بكرة الثقفي مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عثمان بن ميمون العدوي، أبو سلمة عثمان بن ميمون العدوي ← مسلم بن أبي بكرة الثقفي | مقبول | |
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد روح بن عبادة القيسي ← عثمان بن ميمون العدوي | ثقة |
Musnad Ahmad Hadith 20431 in Urdu
مسلم بن أبي بكرة الثقفي ← نفيع بن مسروح الثقفي