مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
919. حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 21027
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ رَافِعِي أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ: وَدَخَلَ عَلَيْنَا الْمَسْجِدَ وَنَحْنُ حِلَقٌ مُتَفَرِّقُونَ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ؟" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ لوگوں کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کا کیا مسئلہ ہے وہ اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہیں جیسے دشوارخو گھوڑوں کی دم ہو نماز میں پرسکون رہا کرو۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا بات ہے کہ میں تمہیں مختلف ٹولیوں کی شکل میں دیکھتا ہوں (صحابہ کرام اس وقت اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے) [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 21027]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 430
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 21027 in Urdu
تميم بن طرفة الطائي ← جابر بن سمرة العامري