پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
954. حديث أسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 21780
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ:" خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ , مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ , قَالَ: وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى , قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَاهُنَا , أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ صَلَّى , قَالَ: قُلْتُ: فَكَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا , ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى , فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا , قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ , قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي , فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا" .
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہوگئے پھر وہ مجھ سے مزاحمت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے وہاں سے باہر کردیا اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21780]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 21780 in Urdu
سليم بن أسود المحاربي ← عبد الله بن عمر العدوي