مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1033. أحاديث رجال من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 23154
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سَالِمِ بنِ أَبي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ، ائْتِينِي بوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ، فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَاكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قُمْ يَا بلَالُ، فَأَرِحْنَا بالصَّلَاةِ" .
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ سسرالی رشتہ داروں میں " جو انصاری تھے " گیا نماز کا وقت ہوا تو میزبان نے کہا اے باندی! وضو کا پانی میرے پاس لاؤ تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اسے بلال! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت مہیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23154]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات لكن اختلف فيه على سالم بن ابي الجعد
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 23154 in Urdu
عبد الله بن الحنيفة الهاشمي ← اسم مبهم