مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1045. حَدِيثُ أَبِي جَبِيرَةَ الضَّحَّاكِ بْنِ الضَّحَّاكِ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23227
حدثنا حَفْصُ بنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بنُ أَبي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبيِّ ، عَنْ أَبي جَبيرَةَ بنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، قَدِمَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا لَهُ لَقَب أَوْ لَقَبانِ، قَالَ:" فَكَانَ إِذَا دَعَا رَجُلًا بلَقَبهِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَكْرَهُ هَذَا"، قَالَ: فَنَزَلَتْ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11 .
ابوجبیرہ (رح) اپنے چچاؤں سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے ایک یا دو لقب نہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی آدمی کو اس کے لقب سے پکار کر بلاتے تو ہم عرض کرتے یا رسول اللہ! یہ اس نام کو ناپسند کرتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی " ایک دوسرے کو مختلف القاب سے طعنہ مت دیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23227]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 23227 in Urdu
أبو جبيرة بن الضحاك الأنصاري ← اسم مبهم