مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2432
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ , سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے نکلے، منبر پر رونق افروز ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ ”اپنی جان اور اپنے مال کے اعتبار سے ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر میں انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلقت سب سے افضل ہے، اس مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کر دو، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2432]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 467
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2432 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي