مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2455
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي: عَرَفَةَ , فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا، فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا، قَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ سورة الأعراف آية 172 - 173".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا، چنانچہ اللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں پھیلا دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کلام کیا اور فرمایا: ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، (ارشاد ہوا) ”ہم نے تمہاری گواہی اس لئے لے لی تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بےخبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آبا و اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے، تو کیا آپ ہمیں باطل پر رہنے والوں کے عمل کی پاداش میں ہلاک کر دیں گے؟“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2455]
حکم دارالسلام: مرفوعه ضعيف، وأكثر الرواة رووه موقوفا على ابن عباس
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2455 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي