مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 24565
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ وَقَدْ نَفِسْتُ وَأَنَا مُنَكِّسَةٌ، فَقَالَ لِي:" أَنَفِسْتِ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا أَحْسِبُ النِّسَاءَ خُلِقْنَ إِلَّا لِلشَّرِّ، فَقَالَ: " لَا، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ ابْتُلِيَ بِهِ نِسَاءُ بَنِي آدَمَ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقام " سرف " میں میرے پاس تشریف لائے، مجھے اس وقت ایام شروع ہوگئے تھے اور میں سر لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہارے ایام شروع ہوگئے؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! اور میرا تو خیال ہے کہ عورتوں کو شر کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں بنی آدم کی ساری عورتیں ہی مبتلا ہوتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24565]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لإرساله، لأن أبا عبيد لم يدرك عائشة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24565 in Urdu
حي بن أبي عمرو المذحجي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق