مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1174. حديث حفصة أم المؤمنين بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنهما
حدیث نمبر: 26458
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ وَهُوَ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي جَيْشٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، يُرِيدُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ، خُسِفَ بِهِمْ فَرَجَعَ مَنْ كَانَ أَمَامَهُمْ لِيَنْظُرَ مَا فَعَلَ الْقَوْمُ، فَيُصِيبَهُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُسْتَكْرَهًا؟ قَالَ:" يُصِيبُهُمْ كُلَّهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ كُلَّ امْرِئٍ عَلَى نِيَّتِهِ" .
حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس بیت اللہ پر حملے کے ارادے سے مشرق سے ایک لشکر ضرور روانہ ہوگا جب وہ لوگ بیداء نامی جگہ پر پہنچیں گے تو ان کے لشکرکا درمیانی حصہ زمین میں دھنس جائے گا اور ان کے اگلے اور پچھلے حصے کے لوگ ایک دوسرے کو پکارتے رہ جائیں گے اور ان میں سے صرف ایک آدمی بچے کا جو ان کے متعلق لوگوں کو خبردے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس آدمی کا کیا بنے گا جو اس لشکر میں زبردستی شامل کرلیا گیا ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آفت تو سب پر آئے گی البتہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت پر اٹھائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26458]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف سلمة وعنعنة ابن إسحاق وجهالة عبدالرحمن بن موسي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 26458 in Urdu
عبد الله بن صفوان الأموي ← حفصة بنت عمر العدوية