پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2722
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هو بن عيسى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ، فَمَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ:" أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ، يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کر سو گئے، نیند کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے، جب بیدار ہوئے تو کسی زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ سوتے ہوئے ہنس رہے تھے، خیر تو تھی؟ فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر خوشی محسوس ہو رہی تھی جو سمندری سفر پر دشمن کو ڈرانے کے لئے نکلے ہیں، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بڑی خیر کا ذکر فرمایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2722]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، والقصة صحيح من حديث أنس وغيره، خ: 2788، م: 1912
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2722 in Urdu
إسحاق بن عبد الله الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي