مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ حَسَنٌ: عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ . ح حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ... فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ:" إِنِّي أَرَى ضَوْءًا، وَأَسْمَعُ صَوْتًا، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ". قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ. ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ يَكُ صَادِقًا، فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ، فَسَأُعَزِّزُهُ، وَأَنْصُرُهُ، وَأُومِنُ بِهِ..
مختلف اسانید سے - جن میں سے بعض میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے اور بعض میں نہیں - مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہو جائے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لے آؤں گا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2845]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3، م : 190
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2845 in Urdu
حماد بن سلمة البصري ← عمار بن أبي عمار الهاشمي