پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ والأعمش ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ"، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، فَطَارَ. قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ، مِنْ رَجُلٍ خَرَجَ بِأَرْضٍ دَوِّيَّةٍ ثُمَّ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدِيثَيْنِ: أَحَدَهُمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْلَكَةٍ، مَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ، فَأَضَلَّهَا، فَخَرَجَ فِي طَلَبِهَا، حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، قَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي أَضْلَلْتُهَا فِيهِ، فَأَمُوتُ فِيهِ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ وَمَا يُصْلِحُهُ".
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے کہ گویا وہ کسی پہاڑ کی کھوہ میں ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کہیں پہاڑ اس پر گر نہ پڑے، اور فاجر آدمی اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو، اس نے اسے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو سفر کے دوران کسی سنسان اور مہلک علاقے سے گزرے، اس کے ساتھ سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، زاد راہ ہو اور ضرورت کی چیزیں ہوں اور وہ اچانک گم ہو جائیں، وہ ان کی تلاش میں نکلے اور جب اسے محسوس ہو کہ اب اس کی موت کا وقت قریب ہے لیکن سوای نہ ملے تو وہ اپنے دل میں کہے کہ میں اسی جگہ واپس چلتا ہوں جہاں سے اونٹنی گم ہوئی تھی، وہیں جا کر مروں گا، چنانچہ وہ اپنی جگہ آ جائے، وہاں پہنچ کر اسے نیند آ جائے، جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری اس کے سرہانے کھڑی ہوئی ہو جس پر اس کا کھانا پینا، زاد راہ اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی موجود ہوں۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 3629]
حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، وهما مكرر ما قبلهما
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3629 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود