مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 4489
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَأُنْبِئْتُ أَنَّ أمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: فَكَيْفَ بِنَا؟ قَالَ:" شِبْرًا"، قَالَتْ: إِذَنْ تَبْدُوَ أَقْدَامُنَا؟ قَالَ:" ذِرَاعًا، لَا تَزِدْنَ عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظر رحم نہ فرمائے گا۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (نافع رحمہ اللہ کے بقول) عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟ (کیونکہ عورتوں کے کپڑے بڑے ہوتے ہیں اور عام طور پر شلوار پاؤنچوں میں آ رہی ہوتی ہے) فرمایا: ”ایک بالشت کپڑا اونچا کر لیا کرو۔“ انہوں نے پھر عرض کیا کہ اس طرح تو ہمارے پاؤں نظر آنے لگیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بالشت پر اضافہ نہ کرنا (اتنی مقدارمعاف ہے)۔“ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 4489]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5783، م: 2085
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني | ثقة حجة حافظ |
Musnad Ahmad Hadith 4489 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي