مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسنَد عَبدِ اللَّهِ بنِ عمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنهمَا
حدیث نمبر: 5913
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، قَالَ: قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ : مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَذْكُرُ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكَوْثَرِ؟ فَقُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ، فَقَالَ مُحَارِبٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ! مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ، شَرَابُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ"، قَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ.
عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا: سبحان اللہ! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اتنا کم وزن نہیں ہو سکتا، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے، جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکریوں پر بہتا ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ شریں، دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے“، محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صحیح فرمایا: کیونکہ واللہ یہ خیر کثیر ہی تو ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 5913]
الحكم على الحديث:
حديث قوي
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 5913 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي