مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 766
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلٌ، أَوْ بَغْلَةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" بَغْلٌ، أَوْ بَغْلَةٌ"، قُلْتُ: وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ قَالَ:" يُحْمَلُ الْحِمَارُ عَلَى الْفَرَسِ، فَيَخْرُجُ بَيْنَهُمَا هَذَا"، قُلْتُ: أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلَى فُلَانَةَ؟ قَالَ:" لَا، إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ کے ایک خچر پیش کیا گیا، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ ”خچر ہے مذکر یا مونث“، میں نے پوچھا کہ یہ کس نسل سے ہوتا ہے؟ فرمایا: ”گھوڑی پر گدھے کو سوار کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ اس خچر کی صورت میں نکلتا ہے۔“ میں نے عرض کیا کہ پھر میں بھی فلاں گدھے کو فلاں گھوڑی پر نہ چڑھا دوں؟ فرمایا: ”نہیں، یہ وہ لوگ کرتے ہیں جو جاہل ہوں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 766]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وجهالة على بن علقمة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 766 in Urdu
علي بن علقمة الأنماري ← علي بن أبي طالب الهاشمي