یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8299
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا، فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ، فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کھجوریں عطاء فرمائیں میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ لیا اور اس تھیلی کو اپنے گھر کی چھت میں لٹکا لیا ہم اس میں سے کھجور نکال کر کھاتے رہتے (لیکن وہ کم نہ ہوتیں) لیکن جب شام والوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو وہ ان کے ہاتھ لگ گئی۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8299]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وقوله فى هذا الحديث: « أصابه أهل الشام » وهم لعله وقع من أحد الرواة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8299 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو هريرة الدوسي