مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8801
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " لَا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ , فَيَقُولُ: اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا! مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ، فَأَنَا أَقُولُهُ، وَمَا أَتَاكُمْ عَنِّي مِنْ شَرٍّ، فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس کے سامنے میری کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ مسہری پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور کہے کہ میرے سامنے تو قرآن پڑھو (حدیث نہ پڑھو) تمہارے پاس میرے حوالے سے خیر کی جو بات بھی پہنچے خواہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو وہ میری ہی کہی ہوئی ہے اور میرے حوالے سے جو غلط بات تم تک پہنچے تو یاد رکھو کہ میں غلط بات نہیں کہتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8801]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي معشر
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8801 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي