مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9081
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَبِّئْنِي بِأَحَقِّ النَّاسِ مِنِّي صُحْبَةً، فَقَالَ:" نَعَمْ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ"، قَالَ: مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أُمُّكَ"، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟، قَالَ:" أَبُوكَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا تمہیں اس کا جواب ضرور ملے گا اس نے کہا کون؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا تمہارے والد۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9081]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 9081 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي