مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسنَد اَبِی هرَیرَةَ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 9421
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَفْتَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ، إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ، يَأْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَهُ فَيَعْمِدُ إِلَى الْجَبَلِ، فَيَحْتَطِبُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلُ بِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے اوپر " سوال " کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی رسی پکڑ کر پہاڑ پر جائے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے، یہ بہت بہتر ہے اس سے کہ لوگوں سے جا کر سوال کرے، اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9421]
الحكم على الحديث:
حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1470 ، م : 1042
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 9421 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي