مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1189
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ، وَلا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلا مَا يَطِيقُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غلام کو خوراک اور لباس فراہم کیا جائے گا، اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کیا جائے گا، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1189]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل محمد بن عجلان، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1662، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4313، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15873، 15874، 15884، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7481، 7482، 8627»
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عجلان مولى فاطمة عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥بكير بن عبد الله القرشي، أبو يوسف، أبو عبد الله بكير بن عبد الله القرشي ← عجلان مولى فاطمة | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← بكير بن عبد الله القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1189 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1189
فائدہ:
اس حدیث میں غلام کے بعض احکام بیان ہوئے ہیں، مثلاً غلام کا کھانا اور لباس اس کے مالک کے ذمہ ہے، اور مالک غلام کی طاقت کے مطابق کام لے سکتا ہے، اس پر زیادتی کرنا حرام ہے، اس غلام سے مراد وہ انسان ہے جو جنگ وغیرہ میں کافروں سے مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے۔ آج کل گھروں میں کام کرنے والے خادم اور نوکر شرعی غلام نہیں ہیں، ہاں ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اس حدیث میں غلام کے بعض احکام بیان ہوئے ہیں، مثلاً غلام کا کھانا اور لباس اس کے مالک کے ذمہ ہے، اور مالک غلام کی طاقت کے مطابق کام لے سکتا ہے، اس پر زیادتی کرنا حرام ہے، اس غلام سے مراد وہ انسان ہے جو جنگ وغیرہ میں کافروں سے مسلمانوں کے قبضے میں آ جائے۔ آج کل گھروں میں کام کرنے والے خادم اور نوکر شرعی غلام نہیں ہیں، ہاں ان کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1187]
Musnad al-Humaydi Hadith 1189 in Urdu
عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي