مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(مسواک سے منہ کی صفائی اور رضامندی کی روایت)
حدیث نمبر: 162
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضي اللَّهُ عَنْها، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِّ , مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”مسواک منہ کو صاف کرتی ہے اور پروردگار کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ”صحيحه“: 1067، وأبو يعلى فى ”مسنده“: برقم: 4569،4598، 4916، وأحمد فى ”مسنده“، برقم: 24840»
الرواة الحديث:
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 162 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:162
فائدہ:
اس حدیث میں مسواک کی اہمیت بیان ہوئی ہے کہ اس کے دو بڑے فائدے ہیں: ① منہ بدبو سے پاک صاف رہتا ہے۔ ② اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسواک کرنا سنت ہے، اور سنت پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔
اس حدیث میں مسواک کی اہمیت بیان ہوئی ہے کہ اس کے دو بڑے فائدے ہیں: ① منہ بدبو سے پاک صاف رہتا ہے۔ ② اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسواک کرنا سنت ہے، اور سنت پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 162]
Musnad al-Humaydi Hadith 162 in Urdu
عبد الله بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق