مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 208
حدیث نمبر: 208
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ لا نَرَى إِلا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِسَرَفٍ , أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَالَكِ أَنَفِسْتِ؟" , فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ" , قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ .
عبدالرحمان بن قاسم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کرنے کا تھا یہاں تک کہ جب میں ”سرف“ کے مقام پر پہنچی یا اس کے قریب پہنچی تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ایسی چیز ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کا مقدر کر دیا ہے، تم وہ مناسک ادا کرو، جو حاجی کرتے ہیں، البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے گائے قربان کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 208]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري:294، 305، ومسلم: 1211، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3834، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4719»
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة أفضل أهل زمانه | |
👤←👥عبد الرحمن بن القاسم التيمي، أبو محمد عبد الرحمن بن القاسم التيمي ← القاسم بن محمد التيمي | ثقة ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الرحمن بن القاسم التيمي | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 208 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:208
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض اور نفاس کے احکام ایک ہی طرح کے ہیں، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلیم نے حیض پر نفاس کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دوران حج میں حائضہ منٰی، عرفات اور مزدلفہ میں مناسک حج ادا کر سکتی ہے، صرف بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہیں کر سکتی۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اس حدیث میں حیض بنات آدم پر لکھ دیا گیا ہے کا بھی ذکر ہے۔ بعض نے کہا کہ حیض بنو اسرائیل کی عورتوں سے شروع ہوا۔ اس کی تردید کرتے ہوئے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں حیض کی ابتداء کیسے ہوئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”حیض ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقرر فرما دی ہے۔“ بعض حضرات کہتے ہیں: حیض پہلے پہلے بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا۔۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمام عورتوں کو شامل ہے۔ (صحیح البخاری قبل ح 294) امام بخاری رحمہ اللہ نے حیض کی ابتدا کے متعلق جو اثر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حیض بنی اسرائیل کی طرف پہلے مسلط کیا گیا تھا۔ یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہکا قول ہے جو (صحیح ابن خزيمه 1700، المختاره لضياء المقدسی ح 9516) میں ہے۔ امام ابن خزیمہ یہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”الخبر موقوف غیر مسند“۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے موقوف کے مقابلے میں مرفوع حدیث کو ترجیح دی ہے۔ یہی راجح ہے کہ روز اول سے ہی حیض بنات آدم پر لکھ دیا گیا تھا اور اہل الحدیث کا یہی منہج ہے کہ وہ ہر موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی «اطيعوا الله واطيعوا الرسول» کا تقاضا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے پینتیس مسائل اخذ کیے ہیں۔ جن کی تفصیل ہم نے اپنی شرح انوار القلوب للقاری بفوائد صحیح البخاری میں بیان کر دی ہے۔ «يسر الله لنا اتمامه» ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض اور نفاس کے احکام ایک ہی طرح کے ہیں، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلیم نے حیض پر نفاس کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ دوران حج میں حائضہ منٰی، عرفات اور مزدلفہ میں مناسک حج ادا کر سکتی ہے، صرف بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہیں کر سکتی۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اس حدیث میں حیض بنات آدم پر لکھ دیا گیا ہے کا بھی ذکر ہے۔ بعض نے کہا کہ حیض بنو اسرائیل کی عورتوں سے شروع ہوا۔ اس کی تردید کرتے ہوئے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں حیض کی ابتداء کیسے ہوئی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”حیض ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقرر فرما دی ہے۔“ بعض حضرات کہتے ہیں: حیض پہلے پہلے بنی اسرائیل پر مسلط کیا گیا تھا۔۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث تمام عورتوں کو شامل ہے۔ (صحیح البخاری قبل ح 294) امام بخاری رحمہ اللہ نے حیض کی ابتدا کے متعلق جو اثر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ حیض بنی اسرائیل کی طرف پہلے مسلط کیا گیا تھا۔ یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہکا قول ہے جو (صحیح ابن خزيمه 1700، المختاره لضياء المقدسی ح 9516) میں ہے۔ امام ابن خزیمہ یہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”الخبر موقوف غیر مسند“۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے موقوف کے مقابلے میں مرفوع حدیث کو ترجیح دی ہے۔ یہی راجح ہے کہ روز اول سے ہی حیض بنات آدم پر لکھ دیا گیا تھا اور اہل الحدیث کا یہی منہج ہے کہ وہ ہر موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی «اطيعوا الله واطيعوا الرسول» کا تقاضا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے پینتیس مسائل اخذ کیے ہیں۔ جن کی تفصیل ہم نے اپنی شرح انوار القلوب للقاری بفوائد صحیح البخاری میں بیان کر دی ہے۔ «يسر الله لنا اتمامه» ۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 208]
Musnad al-Humaydi Hadith 208 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق