🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 224
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 224
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعًا لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَبْلُغُوا أَنْ يَكُونُوا مِائَةً، فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلا شُفِّعُوا فِيهِ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس بھی شخص کا انتقال ہو جائے اور اس پر لوگوں کا اتنا گروہ نماز جنازہ ادا کر لے جو ایک سو تک پہنچے ہوں، تو وہ اگر اس میت کے لیے سفارش کریں، تو ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 224]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 947، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3081، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 4398»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد البصري
Newعبد الله بن يزيد البصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مقبول
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عبد الله بن يزيد البصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 224 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:224
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ لوگوں کا کسی میت پر نماز جنازہ پڑھنا اس کے حق میں سفارش ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ مومنوں کی اہل توحید کے لیے کی گئی سفارش کو قبول کرتے ہیں۔ اس حدیث میں نمازہ جنازہ پڑھنے والوں کی سو تعداد کا ذکر ہے لیکن بعض احادیث میں 40 کا بھی ذکر ہے، ملاحظہ فرمائیں صحيح مسلم (948) لیکن اس حدیث میں شرط یہ ہے کہ جنازہ پڑھنے والے مشرک نہ ہوں بلکہ اہل توحید ہوں، مشرک خواہ کروڑ بھی جنازہ پڑھیں اور سفارش کریں، ان کا جنازہ پڑھنا بالکل رائیگاں ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 224]

Musnad al-Humaydi Hadith 224 in Urdu