🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 226
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 226
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الآنَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَقُّ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لِنَبِيِّهِ: إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کو اب یہ بات پتہ چل گئی ہے، میں دنیا میں ان سے جو کہا کرتا تھا وہ سچ تھا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمایا: ”بے شک تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 226]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى الجنائز 1371، من طريق سفيان، بهذا الإسناد وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 4518،. وانظر تعليقاً على حديث عمر. برقم 140، فى مسند الموصلي أيضاً»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ حجة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 226 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:226
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مردے ہماری باتیں نہیں سنتے۔ مولانا عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب مردے کی جان نکل گئی نبض بند ہوگئی، تمام طاقتیں ختم ہو گئیں، احساس تک جا تا رہا، تو اب وہ کیسے سن سکتا ہے؟ مردہ وہ تو نہیں ہوتا جس میں سننے کی طاقت ہو لیکن بولنے کی طاقت نہ ہو، مردہ تو وہ ہوتا ہے جو کچھ بھی نہ کر سکے، قرآن کریم نے اس آیت میں مردوں ہی کا نقشہ کھینچا ہے:
«أَلَهُمْ أَرْجُلٌ يَمْشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَيْدٍ يَبْطِشُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌ يُبْصِرُونَ بِهَا أَمْ لَهُمْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا» (الاعراف: 195)
”کیا (اب) ان کے ایسے پاؤں میں جن کے ساتھ وہ چل پھر سکیں، یا ایسے ہاتھ میں جن کے ساتھ وہ پکڑ سکیں، یا ایسی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھ سکیں، یا ایسے کان میں جن کے ساتھ وہ سن سکیں۔“
مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی یہ اعضاء رکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ جسم میں جان نہیں ہوتی، اور اگر اعضاء بھی نہ رہیں، انھیں آگ یا مٹی کھا جائے تو پھر سننے اور بولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ پھر سنے گا تو کس چیز سے اور بولے گا تو کس چیز سے؟ اللہ تعالیٰ تو اس حالت میں بھی سنا سکتا ہے لیکن مردے کے بولنے یا سننے کا سوال ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ نہ کان ہیں اور نہ زبان اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا: «فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ» (الروم: 52) اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مردوں کو نہیں سنا سکتے، اور نہ ہی بہروں کو سنا سکتے ہیں، جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جار ہے ہوں۔
بہرے کے کان تو ہوتے ہیں لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی، جب بہر ہ نہیں سن سکتا تو پھر مردہ کیا سنے گا، جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ، ہاں اللہ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے، لیکن کسی اور کی طاقت نہیں کہ وہ ایسا کر سکے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَاءُ وَمَا أَنتَ بِمُسْمِعٍ مَّن فِي الْقُبُورِ» (فاطر: 22) بے شک اللہ تعالیٰ جس کو چاہے سنا سکتا ہے، اور آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں، (یعنی مردہ ہیں) اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟ (مسئلہ سماع موتی، ص: 9، 10)
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 226]

Musnad al-Humaydi Hadith 226 in Urdu